جدید افسانے کے بارے میں

جدید افسانے کے بارے میں

اس وقت میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ اُردو افسانے پر پیغمبری وقت آپڑا ہے۔ 
وہ افسانہ نگار جنہوں نے تیسری، چوتھی یا پانچویں دہائی میں لکھنا شروع کیا تھا اب اپنے عروج پر پہنچ کر یا تو نظروں سے اوجھل ہو گئے ہیں یا پھر اب خود کو دہرا رہے ہیں۔ نئے لکھنے والے جو ادب کی دنیا میں چھٹی یا ساتویں دہائی میں داخل ہوئے، اُنہیں علامتی افسانوں کا بھیڑیا اُٹھا لے گیا۔ ان کے افسانوں میں نہ علامت نے روشنی کی اور نہ تحریر کے حسن نے اثر پیدا کیا۔ یہ ایک تجربہ تھا جو ہوا اور ادب میں تجربہ ہونا چاہیے اور ہوتا رہنا چاہیے۔ لیکن یہ تجربہ تجربے کی منزل سے آگے بڑھ کر تحقیق فن کی سرحدوں تک نہ پہنچ سکا۔ چند افسانوں کے علاوہ، عام طور پر علامتی افسانے تخلیقی سطح پر کم زور اظہار اور علامت نگاری کی ناکامی کی داستان سناتے ہیں بعض افسانہ نگاروں نے افسانے کو نثری نظم بنانے کی کوشش کی لیکن افسانہ نہ تو شاعری ہے اور نہ نظم ہے۔ اس لیے افسانہ اپنے منصب سے ہٹ گیا۔ ہم گذشته دس سال میں کسی علامتی افسانہ نگار کی کسی ایک کہانی کا نام نہیں لے سکتے جسے ہم ادب کا شاہکار کہہ سکیں اور تاریخ ادب اسے اپنے دامن میں سمیٹ سکے۔ یہی وجہ ہے کہبمیں نے کہا ہے کہ اردو افسانے پر پیغمبری وقت آ پڑا ہے۔ ابلاغ ہر ادبی تحریر کی فنی ضرورت ہے۔ ایک ابلاغ وہ ہے جیسا ہمیں منٹو کی کہانیوں میں ملتا ہے یا عصمت چغتائی، راجندرسنگھ بیدی، کرشن چندر اور غلام عباس کے ہاں ملتا ہے۔ کہانیوں کے ذریعے زندگی آپ کے خون میں اتر کر گردش کرنے لگتی ہے۔ ایک ابلاغ وہ ہے جو علامتی ہونے کے باوجود اپنے قاری کو گرفت میں لے لیتا ہے جیسا انتظار حسین کے افسانے "شہر افسوس" میں یا "آخری آدمی" میں جو غور کرنے سے قاری تک پہنچ جاتا ہے لیکن یہاں بھی نثر کا حسن اور اظہار کی تخلیقی قوت بنیادی طور پر اپنا کام کرتی ہے۔ تیسری قسم ابلاغ کی وہ ہے کہ افسانہ نگار افسانے کو علامتی بنانے کے لیے اس میں ابہام کو کچھ اس طرح شعوری طور سے شامل کرتا ہے کہ افسانہ پڑھنے والے سے اُس کے اچھے ادبی ذوق کے باوجود، ابلاغ نہیں کرتا۔ کافکا کے افسانوں کو غور سے پڑھنے سے ایک اچھے قاری کو ابلاغ کی دولت ہاتھ آجاتی ہے اور اس کے افسانوں کی نثر تخلیق کی سطح پر پُر اثر اور بامعنی رہتی ہے۔ ایک ایک لفظ نپا تلا ۔ ایک ایک جملہ اپنی جگہ جما ہوا ۔ یہ سلیقہ ہمیں جدید اردو افسانہ نگاروں میں کم کم نظر آتا ہے بعض افسانہ نگاروں کے افسانوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اُردو نثر کی روایت اور اس کے مزاج سے کم و بیش بے خبر ہیں۔ انھیں اظہار پر اس لیے قدرت حاصل نہیں ہے کہ انھیں اپنی بات اس زبان میں جس میں وہ لکھ رہے ہیں، کہنے کی نہ مشق ہے اور نہ وہ مطالعہ جو اچھی تحریر کے لیے ضروری ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے نئے افسانہ نگاروں کو اچھی نثر لکھنے، اس کی مشق کرنے اور اُردو ادب کی کلاسیکی اور جدید تحریروں کو تسلسل کے ساتھ پڑھنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر ادب تخلیق نہیں ہو سکتا لیکن گذشتہ چند سال سے ہمارے بعض لکھنے والوں میں اس کا احساس پیدا ہوا ہے اور اب افسانہ علامت سے ہٹ کر زندگی کی طرف دوبارہ لوٹ رہا ہے۔ اب علامت ہمارے جدید افسانے کا ماضی ہے اور زندگی سے تعلق نو افسانے کا نیا رجحان ہے۔ آخر میں نئے افسانہ نگاروں سے ایک بات اور کہنا چاہتا ہوں۔ کراچی شہر پاکستان کا سب سے بڑا اور ایک جدید صنعتی شہر ہے۔ جدید صنعتی شہر کے سارے مسائل مصائب اس شہر کے خون میں گردش کر رہے ۔ اس کے چپے چپے پر کہانیاں بکھری پڑی ہیں۔ وہ کہانیاں جن میں انسانی مسائل اپنے گہرے دکھوں کے ساتھ موجود ہیں. وہ محبتیں جو بے آواز ہیں۔ وہ نفرتیں جو خون آلود ہیں۔ وہ تعصبات جو بظاہر نا قابل عبور ہیں۔ وہ سڑکیں جن پر دھوپ ہی دھوپ ہے اور وہ گلیاں جن میں کبھی سورج کی کرن نہیں پہنچی۔ وہ شفا خانے جہاں موت کا کرب کروٹیں لے رہا ہے۔ وہ معاشرہ جو رشوتوں پر پل رہا ہے۔ وہ عوام جو بے آواز ہیں، وہ جاگیردار اور سرمایہ دار جو عوام کو کھا رہے ہیں۔ سیاست کا سوانگ رچانے والے وہ بے اخلاق لوگ جو نفرتوں کے گرم خون پر پَل رہے ہیں اور نفرتوں کے سانچوں کا زہر نئی نسل کے خون میں شامل کر رہے ہیں۔ وہ مفاد پرست جو عوام کو بے شعور اور نابینا رکھنے میں مصروف ہیں۔ وہ صاحبان اختیار جو تاریخ کو نظر انداز کر کے صرف اپنے لیے زندہ ہیں۔ وہ سفاک مافیا جو انسانی قدروں کا خونی ہے ۔ یہ شہر جدید صنعتی زندگی کی حقیقی کہانیوں کا شہر ہے۔ آپ اس شہر کو دیکھیے ۔ یہ آپ کی کہانیوں کا منتظر ہے۔ اس عمل سے آپ نیا افسانہ پیدا کریں گے۔

(۲۸  اپریل ۱۹۸۷)

تحریر: ڈاکٹر جمیل جالبی


ڈاکٹر جمیل جالبی

ڈاکٹر جمیل جالبی

ڈاکٹرجمیل جالبی 12 جون، 1929ء کو علی گڑھ، برطانوی ہندوستان میں ایک تعلیم یافتہ گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام محمد جمیل خان ہے۔ ان کے آباء و اجداد یوسف زئی پٹھان ہیں اور اٹھارویں صدی میں سوات سے ہجرت کر کے ہندوستان میں آباد ہوئے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کے والد محمد ابراہیم خاں میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ جالبی صاحب کی سب سے پہلی تخلیق سکندر اور ڈاکو تھی جو انھوں نے بارہ سال کی عمر میں تحریر کی اور یہ کہانی بطور ڈراما اسکول میں اسٹیج کیا گیا۔ جالبی صاحب کی تحریریں دہلی کے رسائل بنات اور عصمت میں شائع ہوتی رہیں۔ ان کی شائع ہونے والی سب سے پہلی کتاب جانورستان تھی جو جارج آرول کے ناول کا ترجمہ تھا۔ ان کی ایک اہم کتاب پاکستانی کلچر:قومی کلچر کی تشکیل کا مسئلہ ہے جس کے آٹھ ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کی ایک اور مشہور تصنیف تاریخ ادب اردو ہے جس کی چار جلدیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی دیگر تصانیف و تالیفات میں تنقید و تجربہ، نئی تنقید، ادب کلچر اور مسائل، محمد تقی میر، معاصر ادب، قومی زبان یک جہتی نفاذ اور مسائل، قلندر بخش جرأت لکھنوی تہذیب کا نمائندہ شاعر، مثنوی کدم راؤ پدم راؤ، دیوان حسن شوقی اور دیوان نصرتی وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم اردو کی لغت، فرہنگ اصلاحات جامعہ عثمانیہ اور پاکستانی کلچر کی تشکیل بھی ان کی اہم تصنیفات ہیں۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے متعدد انگریزی کتابوں کے تراجم بھی کیے جن میں جانورستان، ایلیٹ کے مضامین، ارسطو سے ایلیٹ تک شامل ہیں۔ بچوں کے لیے ان کی قابل ذکر کتابیں حیرت ناک کہانیاں اور خوجی ہیں۔ جمیل جالبی کی ایک کتاب ’’تنقید اور تجربہ‘‘ ہے جس میں چوبیس مضامین ہیں۔ ’’حیرتناک کہانیاں‘‘ کے نام سے ایک کتاب ہے، جو 1983ء میں بک فاؤنڈیشن، کراچی سے شائع ہوئی ہے۔ قدیم اردو کی لغت مرکزی اردو بورڈ، لاہور نے 1983ء میں شائع کیا۔ محمد تقی میر پر بھی ان کی ایک کتاب ہے، جسے انجمن ترقی اردو کراچی نے 1981ء میں شائع کیا۔ ایک مجموعہ ’’نئی تنقید‘‘ بھی ہے جسے خادر جمیل نے 1985ء رائل بک کمپنی سے شائع کروادیا۔ اس مجموعے میں 23 مضامین ہیں۔ ان کی ایک کتاب پاکستان کلچر سے متعلق ہے۔ دراصل یہ ترجمہ ہادی حسین کی کتاب کا ہے۔ دوسرے تراجم میں ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘، ’’ایلیٹ کے مضامین‘‘ اور ’’جانورستان‘‘ مشہور ہیں۔ تحقیقات میں ’’دیوان حسن شوقی‘‘، ’’دیوان نصرتی‘‘، ’’مثنوی نظامی دکنی المعروف‘‘ مثنوی کدم راؤ پدم راؤ‘‘ اہم ہیں۔ تالیفات میں بھی چار کتابوں کا ذکر ہے۔ جیسے ’’بزم خوش نفساں‘‘، اس میں شاہد احمد دہلوی کے 26؍ سوانحی خاکے ہیں۔ ’’حاجی بغلول‘‘ (منشی سجاد حسین کا مزاحیہ ناول) اس کے علاوہ ’’ن م راشد: ایک مطالعہ‘‘۔ آخری کتاب انگریزی میں ہے، نام ہے The changing world of Islam دراصل یہ کتاب ڈاکٹر قاضی اے قادر کے اشتراک سے مرتب کی گئی ہے۔ ان تمام ادبی فتوحات کے ساتھ ساتھ ایک لمبی فہرست ان پیش لفظ، مقدمات، تعارف کی ہے جو موصوف وقتاً فوقتاً لکھتے رہے ہیں۔ ان کی تعداد 45 ہے اور اگر انگریزی کے مشملات کو ملا لیا جائے تو تعداد 61(اکسٹھ) ہوجاتی ہے۔ جمیل جالبی نے اتنے موضوعات پر خامہ فرسائی کی ہے کہ سب کے تحلیل و تجزیے کے لئے ایک تفصیلی کتاب کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی کو ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں 1964ء، 1973ء، 1974ء اور 1975ء میں داؤد ادبی انعام، 1987ء میں یونیورسٹی گولڈ میڈل، 1989ء میں محمد طفیل ادبی ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی طرف سے 1990ء میں ستارۂ امتیاز اور 1994ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا[2]۔ اکادمی ادبیات پاکستان کی طرف سے 2015ء میں آپ کو پاکستان کے سب سے بڑے ادبی انعام کمال فن ادب انعام سے نوازا گیا۔ ڈاکٹر جمیل جالبی نے 89 سال 10 ماہ 6 دن کی عمر میں 18 اپریل 2019ء کو کراچی میں وفات پائی۔

More Proses from the same author

Poems from the same author

Share this prose

Unlock the Power of Language & AI

Benefit from dictionaries, spell checkers, and character recognizers. A revolutionary step for students, teachers, researchers, and professionals from various fields and industries.

Lughaat

Empower the academic and research process through various Pakistani and international dictionaries.

Explore

Spell Checker

Detect and correct spelling mistakes across multiple languages.

Try Now

OCR

Convert images to editable text using advanced OCR technology.

Use OCR